ہم نے خود اپنی رہ نمائی کی اور شہرت ہوئی خدائی کی میں نے دنیا سے ، مجھ سے دنیا نے سینکڑوں بار بے وفائی کی کھلے رہتے ہیں سارے دروازے کوئی صورت نہیں رہائی کی لوٹ کر ہم ملے ہیں پہلی بار یہ شروعات ہے جدائی کی سوئے رہتے ہیں اوڑھ کر خود کو اب ضرورت نہیں رہائی کی منزلیں چومتی ہیں میرے قدم داد دیجئے شکستہ پائی کی زندگی جیسے تیسے کاٹنی ہے کیا بھلائی کی ، کیا برائی کی عشق کے کاروبار میں ہم نے جان دے کر بڑی کمائی کی اب کسی کی زباں نہیں کھلتی رسم جاری ہے منہ بھرائی کی

إرسال تعليق