Aabi Makhnavi is a poet of pakistan,from karachi.We feel said and dard in aabi makhnavi poetry.Aabi maknavi poetry is on present situation.
دیکھ سکتا ہوں اندھیرے میں بہت صاف مگر
دِن میں سو جاؤں تو پھر رات سے ڈر لگتا ہے
یہ رہے بچھو مِری مُٹھی میں ، ہیں جیب میں سانپ
ہاں مگر آدمی ذات سے ڈر لگتا ہے
ایک دو دِن ہوں گزر جائیں کسی طور کہ اب
عُمر میں وقت کی بہتات سے ڈر لگتا ہے
اتنی عیاشی بھی ہے کافی کہ سُن سکتا ہوں
بول بھی سکتا ہوں مگر بات سے ڈر لگتا ہے
لوگ اچھے بھی ہیں مخلص بھی قدردان بھی ہیں
میں بُرا ہوں سو مُلاقات سے ڈر لگتا ہے
--------------------------------------------
تھوڑا مومن ذرا منافق ہوں
میں بھی ماحول کے مطابق ہوں
----------------------------------------------
تم نے دیکھے ہیں بلبلے اب تک
تہہ میں پتھر بڑے نوکیلے ہیں !
زندہ لاشیں ہیں تاج والے سبھی !
اپنے چھوٹے بڑے جو شیلے ہیں !
بات انگلی اٹھا کے مت کرنا
اپنی اوقات میں رہو ورنہ !
ہم کلائی مروڑ دیتے ہیں
ساری مستی نچوڑ دیتے ہیں
-------------------------------------------
وہ شَب جو پردہ بنے ہمارا اُسے سویرے کا نام دیں گے
یہ دِن تو ننگے بدن کو نوچے یہ دِن ہے کالاعذاب لوگو
------------------------------------------------
جو میری آنکھوں نے دیکھا لوگو اگر بتادوں تو کیا کرو گے
جو سُن رہے ہو وہ کچھ نہیں ہے میں سب سُنا دوں تو کیا کرو گے
یہ ہڈی بوٹی پہ پلنے والے تمھیں بھی جاں سے عزیز تر ہیں
میں اِن کے گورے نَسب کا شجرہ کہیں مِلا دوں تو کیا کرو گے
یَتیم دھرتی کے قاتلوں سے کوئی نہیں جو قصاص مانگے
میں اَپنے بَچوں کو دَرس دے کر ابھی لگا دوں تو کیا کرو گے
اے گونگو ، بہرو جیو گے کب تک زمیں کے سینے پہ بوجھ بن کے !
میں سَارے ناگوں کے سب ٹھکانے تمھیں بتا دوں تو کیا کرو گے
یہ لکھنا پڑھنا یہ کہنا سُننا چلے گا کب تک خِرد کے مارو
میں اَپنی کاغذ قلم کی دُنیا ابھی جلا دوں تو کیا کرو گے
اگر طلب ہے تمھیں کہ دیکھو وہ پہلے قطرے کا سُولی چڑھنا
میں کوئے جاناں سے سُوئے مقتل قدم اُٹھا دوں تو کیا کرو گے
تمھاری آنکھوں میں دَم نہیں ہے کہ سہہ سکیں وہ کوئی سویرا
میں شَب کے سینے پہ مونگ دَل کے دِیا جلادوں تو کیا کرو گے
یہ سچ کا ہیضہ جسے ہوا ہے وہ تُم میں باقی کہاں رہا ہے
جو سو رہا ہے منافق عابی اُسے جگا دوں تو کیا کرو گے
-----------------------------------------------------
زندگی جیت کو نہیں کہتے
موت سے مات تو نہیں ہوتی
روشنی دن کو تو نہیں کہتے
تیرگی رات تو نہیں ہوتی
آسمان و زمیں بھی ملتے ہیں
عشق میں ذات تو نہیں ہوتی
خامشی ہم کلام رہتی ہے
آپ سے بات تو نہیں ہوتی
---------------------------------------------
فُرصت میں کبھی دیکھو یہاں تخت نشینو !!
ہم خاک نشیں کتنے مزے لُوٹ رہے ہیں!!
----------------------------------
ھو رھا ھے فصلِ گُل کا پیرھن میلا یہاں !!
پھُول کچرا چُن رھے ھیں کُوچہ و بازار میں
-------------------------------------------
دَم نِکلتا ہے پھڑپھڑا ہٹ سے !
کوئی پینچھی ہے قید سینے میں
مرنے والوں کو داد کیا دینی !
سارے رُتبے ہیں یار جینے میں
فرق ہوتا ہے مان لے عابی !
زہر کھانے میں اور پینے میں
------------------------------------------
آج سے ہم نے چھوڑ دی زاہد !
ایک جام اِس خوشی میں ہو جائے
---------------------------------
بیچ کر دِن کو نیند لایا ہوں
اِتنا کافی ہے اِس گرانی میں
-------------------------------
سر پہ یعقوب گر نہ ہو عابی !
پھر تو بس بولیاں ہی لگتی ہیں
----------------------------وہ جاں ہتھیلی پہ دھر کے لایاوہ مال قربان کر کے آیانہ اُس نے کوئی سوال پُوچھانہ اُس نے کوئی دلیل مانگی !!وہ ٹاٹ پہنے تو سب فرشتوں کوحکم مِلتا ہے ٹاٹ پہنو !!عمر (رض) کی حسرت کہ اُس کو پہنچےمگر وہ پہلے ﷺکا دوسرا تھاخُدا نے جس کو کہا ہو صاحبتو اُس کا رُتبہ شمار کیا ہو !!حبیب رب ﷺ کا جو یار ٹھہرےتو اُس کی قسمت سے کیا تقابل !!زمیں نے دیکھا فلک نے دیکھاکہ کِس ادا سے نثار تھا وہ !!وفا کی وادی سے لاکھوں گُزرےمگر نہیں کوئی اُس کا ثانی !!میں کتنے برسوں سے لِکھ رہا ہوںمگر قلم کی یہ عاجزی ہےوہ سر کو تھامے پڑا ہے عابییہ ہاتھ جوڑے کھڑا ہُنر ہے !!تو کیوں نہ کہہ دوں کہ دو جہاں میںہے ایک ہی جو ابوبکر (رض) ہے !!
-----------------------------------------
پرندے لوٹ آتے ہیں مگر یہ آدمی عابی !
ذرا سے پر نکلتے ہی ٹھکانے چھوڑ جاتے ہیں
---------------------------------
رضی اللہ عنہ
۔۔۔۔۔۔۔
اسلام کی ہر دور میں ہیں جاہ ابوبکر
ہر جا ہیں ابوبکر تو ہر گاہ ابوبکر
وہ فرش کہ ہو عرش ، ہیں ہر سمت ہی چرچے
قرآں میں بھی ملتا ہے ہمیں واہ ابوبکر
نے تخت کوئی تاج ، نہ ہے خلعت شاہی
ہر دور کے شاہوں نے کہا ، شاہ ابوبکر
وہ دستِ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و اصحابہ وسلم بھی رہے چشم بھی دِل بھی
اسرارِ نبوت سے تھے آگاہ ابوبکر
جب سر پہ پڑا بوجھ عمر جیسا جری بھی
تنہائی میں رو پڑتا ہے کہ ، آہ ابوبکر
دائیں بھی ابوبکر تھے بائیں بھی ابوبکر
تا خلدِ بریں آقا صلی اللہ علیہ و آلہ و اصحابہ وسلم کے ہمراہ ابوبکر
ہر عاشقِ صادق کو یہ معلوم ہے عابی
منزل جو محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و اصحابہ وسلم ہیں تو ، ہیں راہ ابوبکر
---------------------------------------------
شدتِ غم سے اگر رِشتہِ گِریہ ہوتا
آنکھیں کیا ہوتیں مِری ایک تماشا ہوتا
------------------
چشمہ ٹیبل پہ رکھ دیا میں نے
آنکھیں کیسے اُتاروں سونے کو
-----------------------
دِل خراشوں سے یُوں نہیں سجتا
اُس نے کُھرچا ہے پیار ناخن سے
خون کیسے بہے نہ کانوں سے
ہم نے چھیڑا ہے تار ناخن سے
اب چباتے ہی عمر کاٹے گا
اب تو کھیلے گا یار ناخن سے
------------------------
ہوس کو پوجنے والے پجاری آج نکلیں گے
محبت کا تماشا ہے مداری آج نکلیں گے
لگیں گے نرخ عصمت کے جمےگی ہرطرف بازی
حیا سے کھیلنے والے جواری آج نکلیں گے
ہزاروں پھول سُولی پر چڑھیں گے آج پھر عابیؔ
خدایا رحم گلشن پر شکاری آج نکلیں گے
Post a Comment