Chehro ki dhoop aankho ke gahrai lay gia| Rahat Indori poetry| Shayari

چہروں کی دھوپ آنکھوں کی گہرائی لے گیا آئینہ سارے شہر کی بینائی لے گیا ڈوبے ہوئے جہاز پہ کیا تبصرہ کریں یہ حادثہ تو سوچ کی گہرائی لے گیا حالانکہ بے زبان تھا لیکن عجیب تھا جو شخص مجھ سے چھین کے گویائی لے گیا میں آج اپنے گھر سے نکلنے نہ پاؤں گا بس اک قمیص تھی جو مرا بھائی لے گیا غالبؔ تمہارے واسطے اب کچھ نہیں رہا گلیوں کے سارے سنگ تو سودائی لے گیا

Post a Comment

Post a Comment (0)

Previous Post Next Post